ایک سوچ !
مصنف raza بتاریخ September 10, 2008 – 2:03 am ۔رات کافی بیت چکی ہے اور سوچ ہے کہ بیکراں سمندر کی طرح امڈتی چلی آ رہی ہے، ایک کے بعد ایک لہر ۔۔۔۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار جھیل میں ایک پتھر پھینکنے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ ایک معمولی پتھر پانی کو اس حد تک بےچین کر سکتا ہے کہ لہر در لہر پھیلتا چلا جائے۔۔۔۔ اور اس میں خود کو سمیٹنے کی بھی طاقت اور اختیار نہ ہو،
انسان بھی جھیل کے پانی کی طرح ہے شاید یا شاید اس معمولی پتھر کی طرح ہے ۔۔۔ مگر اب تک میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ انسان دراصل ہے کیا۔۔۔۔ پانی ہے جو طاقت کے باوجود بے اختیار ہے یا وہ پتھر جو چھوٹا ہونے پر بھی طاقت رکھتا ہے۔۔۔۔
جو بھی ہے یہ ایک سوچ شاید خود کو اور اپنی ہستی کو کھوجنے کا ایک بہانہ ہے۔۔۔۔ یا شاید مادیت سے آزادی حاصل کرنے کا ردعمل ہے
شاید یہی فنا اور بقا کا قانون ہے
زمرہ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں ! کے تحت شائع ہوا | تبصرہ میں پہل کیجیے »
عجب دیکھا تماشہ میری آنکھوں نے
June 6, 2008 – 8:43 amایک حیرت انگیز چیز میں دیکھ رہا تھا مگر کچھ ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »نئے سرے سے اٹھا پھر نیا وبال اک اور
June 1, 2008 – 8:49 pmنئے سرے سے اٹھا پھر نیا وبال اک اور ترے جواب ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »ایسا متن میں ہوں کہ متن میں نہیں ہوں میں !
June 1, 2008 – 8:47 pmڈھونڈو سخن میں ہوں کہ سخن میں نہیں ہوں میں ایسا ...
2 تبصرے »نہیں ہے سنگ کوئی سر کے واسطے تہہ زلف !
June 1, 2008 – 8:47 pmوہ ڈوبے رہنے کی حالت ہی چھین لی مجھ سے ترے ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »راتوں سے گھنی ان زلفوں سے مر مر سے سبک ان ہاتھوں میں !
June 1, 2008 – 8:45 pmہم تیرے حسن کی ہیبت میں بس چاند کو تکتے ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »تنہائی
June 1, 2008 – 8:43 pmبزم میں عقل کی تنہائی کا در کھلتا ہے یعنی اک ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »